اتوار 1 نومبر 2026 - 18:41
نمازِ اول وقت کی پابندی سے انسان ہر مقصد تک پہنچ سکتا ہے

حوزہ/ استاد حوزه علمیہ خراسان حجۃ الاسلام والمسلمین نورمحمد نظری شاہرودی نے کہا کہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بہجتؒ اپنے استاد آیت اللہ قاضیؒ سے نقل کرتے تھے کہ جو شخص اپنی نماز اول وقت ادا کرے گا، وہ جس مقصد کے لیے کوشش کرے گا، اسے حاصل کر لے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو مجھے برا بھلا کہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد حوزه علمیہ خراسان حجۃ الاسلام والمسلمین نورمحمد نظری شاہرودی نے کہا کہ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بہجتؒ اپنے استاد آیت اللہ قاضیؒ سے نقل کرتے تھے کہ جو شخص اپنی نماز اول وقت ادا کرے گا، وہ جس مقصد کے لیے کوشش کرے گا، اسے حاصل کر لے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو مجھے برا بھلا کہے۔

قم میں مقیم شہر ہمدان کے طلبہ اور علماء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین نورمحمد نظری شاہرودی نے ہمدان کو علم و علما کی سرزمین قرار دیا اور کہا کہ اس شہر نے ملا حسینقلی ہمدانی، آیت اللہ بہاری، بابا طاہر، بو علی سینا اور آیت اللہ نوری ہمدانی جیسی شخصیات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے اس شہر میں سادات کے مقام و مرتبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگ سادات سے خاص محبت رکھتے ہیں اور امام زادوں سے برکت حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان کی عظمت اور مقام کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین نظری شاہرودی نے بارہ روزہ جنگ کے دوران اپنے دو بچوں کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں ان کے دو فرزند شہید ہوئے؛ ایک بیٹا جو طالب علم تھا اور ایک بیٹی جو حافظۂ قرآن تھی۔

انہوں نے تقویٰ الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آیتِ کریمہ «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا» کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب بھی لوگ مرحوم آیت اللہ بہجتؒ سے کوئی نصیحت یا عملی ہدایت طلب کرتے تو وہ تقویٰ الٰہی کو سب سے اہم دستور العمل قرار دیتے تھے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان جن کاموں کا مکلف ہے انہیں انجام دے اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے پرہیز کرے۔ یہی انسان کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔

آخر میں انہوں نے آیت اللہ بہجتؒ کے حوالے سے نماز اول وقت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ بہجتؒ اپنے استاد آیت اللہ قاضیؒ سے نقل کرتے تھے کہ جو شخص نماز اول وقت ادا کرے، وہ اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بات ان حضرات کے یقین کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، لہٰذا ہمیں بھی جن باتوں کا علم ہے، ان پر عمل کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha